حدیث کساء ان حقائق و مسلمات میں ایک حقیقت ہے جسکا کوئی جاھل اور اسلامی حقائق و معارف کے مطالعہ سے غافل شخص ہی انکار کر سکتا ہے کسی چیز کو غیر معتبر اور غیر صحیح اسی وقت قرار دیا جا سکتا ہے جب:

۱۔       اول تو اسکا اسلامی معارف و حقائق کے ذخیرے میں کہیں کوئی ذکر نہ ملتا ہو ۔

۲۔      دوسرے محدثین و محققین نیز رجال حدیث وغیرہ نے اس کی تائید نہ کی ہو اور اس کی سند اور اعتبار کو رد کر دیا ہو۔

۳۔     تیسرے اس کے معانی و مفاھیم اسلام و قرآن کے حقائق و معارف اور مفاھیم اسلام و عقائد کے خلاف ہوں۔

لیکن اگر یہ باتیں نہ پائی جاتی ہوں بلکہ اسکا اسلامی معارف و حقائق میں تذکرہ پایا جاتا ہو علماء رجال محققین محدثین وغیرہ نے اس کی تائید بھی کی ہو اور اس کے اسناد و مأخذ کو معتبر قرار دیا ہو تو اس سے انکار کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی سوائے کسی خاص غرض اور عناد و دشمنی کے اس سلسلہ میں ذیل میں ہم بغیر کسی مقدمہ کے مشہور حدیث کساء کی سند کو آپ کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں تاکہ اس کے مسلم الثبوت حقیقت اور معتبر ہونے کے بارے میں کوئی شبہ نہ رہ جائے۔

شیخ عبد اللہ بحرانی: شیخ عبد اللہ بحرانی صاحب عوالم فرماتے ہیں:

میں نے شیخ جلیل سید ھاشم بحرانی کے خط مبارک میں دیکھا کہ انھوں نے شیخ جلیل سید ماجد بحرانی سے انھوں نے شیخ حسن بن زین العابدین شہید ثانی سے انھوں نے شیخ مقدس اردبیلی سے انھوں نے شیخ علی بن عبد العالی کر کی سے انھوں نے شیخ علی بن ھلال جزایری سے ،انھوں نے شیخ احمد بن فھد حلی سے ،انھوں نے شیخ علی بن خازن حائری سے انھوں نے شیخ ضیاء الدین علی فرزند شھید اول سے انھوں نے اپنے پدر بزرگوار سے(شہید اول سے)انھوں نے فخر المحققین (فرزند علامہ حلی)سے ،انھوں نے اپنے پدر بزرگوار (آیۃ اللہ)علامہ حلی سے ،انھوں نے اپنے شیخ محقق اول سے انھوں نے شیخ ابن نماحلی سے انھوں نے شیخ محمد بن ادریس حلی سے انھوں نے ابن حمزہ طوسی صاحب ثاقب المناقب سے انھوں نے شیخ جلیل محمد بن شہر آشوب سے انھوں نے طبرسی صاحب ’’الاحتجاج‘‘ سے انھوں نے شیخ جلیل حسن بن محمد بن حسن طوسی سے ،انھوں نے اپنے پدر بزرگوار شیخ الطائف طوسی سے ،انھوں نے شیخ مفید سے، انھوں نے شیخ ابن قولویہ قمی سے انھوں نے شیخ کلینی سے۔ انھوں نے علی بن ابراہیم سے انھوں نے اپنے پدربزرگوار ابراہیم بن ہاشم سے انھوں نے احمد بن محمد ابن ابی نصر بن بزنطی سے، انھوں نے قاسم بن یحی بن جلاء کوفی سے انھوں نے ابو بصیر سے انھوں نے ابان بن تغلب سے انھوں نے جابر بن یزید جعفی سے اور انھوں نے جابر بن عبد اللہ انصاری ﷫ سے نقل کیا ہے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری نے فرمایا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم : سمعت فاطمۃ الزھراء (بنت رسول اللہ ﷺ) انھا قالت : دخل علی ابی……الخ

اس کے علاوہ احقاق الحق جلد ۲ ؍ ۵۵۵ میں بھی عوالم العلوم نسخہ مکتبہ سلیمانیہ (مخطوط) سے نقل ہے اور اس حدیث کو محدث رجال خبیر شیخ فخر الدین طریحی صاحب مجمع البحرین نے اپنے منتخب ص۔۲۵۹ میں ذکر کیا ہے۔

اور صاحب کتاب مسند فاطمہ الزھراء سید حسین شیخ الاسلامی فرماتے ہیں میں نے اس نسخہ کو تمام سند کے ساتھ اپنے والد گرامی رحمۃ اللہ کے ہاتھ میں دیکھا ہے جسے علامہ مجتہد آیۃ اللہ سید شہاب الدین مر عشی نجفی (مد ظلہ) نے ان کے پاس بھیجا تھا،اور اسے عالم جلیل زاھد حاج شیخ محمد تقی بن حاج شیخ محمد باقر یزدی بافقی(نزیل قم)نے اپنے رسالہ میں نقل کیا ہے اور علامہ جلیل دیلمی نے اپنی کتاب ’’غرر والدرر‘‘ میں اور عالم جلیل الحجۃ خازن (كلید بردار)روضہ شاہ عبد العظیم الحسنی شیخ محمد جواد الدازی كنی نے اپنی کتاب نور الآفاق ۲؍ طبع تہران) میں نقل کیا ہے۔

اور فاضل ادیب شیخ حسین علی آل شیخ سلیمان بلادی بحرانی کہتے ہیں:

اس مشہور حدیث کساء کو سید اجل سید محمد بن علامہ سید مہدی قزوینی حلی نجفی رضوان اللہ علیہ نے منظوم شکل میں (شعر میں)مرتب فرمایا ہے۔

روت لنا فاطمۃ خیر النساء حدیث اھل الفضل اصحاب الکساء

تقول ان سید الانام             قد جائنی یوما من الایام

اور مرحوم مرزا یحییٰ مدرس اصفہانی نے حدیث کساء کے واقعہ کو فارسی منظوم میں بھی پیش کیا ہے صاحبان ذوق اور تحقیق و جستجو سے شوق رکھنے والے عربی و فارسی منظوم دونوں کے لیئے مراجعہ کریں کتاب ’’فاطمہ الزھراء سرورِ دل پیامبر‘‘ تألیف احمد رحمانی ہمدانی کی طرف تاکہ علم میں اضافہ ہو۔

خدا وند عالم ہم سب کو اصحاب کساء کی ولایت و محبت پر قائم و دائم فرما اور اسکی آخری فرد ولی نعمت حضرت حجت ﷣ کے ظہور پر نور میں تعجیل فرما۔آمین رب العالمین۔

 

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْم

عَن جَابِرِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ الْاَنْصَارِىْ عَنْ فَاطِمَةَ الزَّاهْرَاءِ عَلَيْهَا السَّلاَمُ بِنْتِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ اٰلِهٖ وَ سلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ اَنَّهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ اَبِىْ رَسُوْلُ اللهِ فِىْ بَعْضِ الْاَيَّامِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا فَاطِمَةُ فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلَامُ قَالَ اِنِّىْٓ اَجِدُ فِىْ بَدَنِىْ ضُعْفًا فَقُلْتُ لَهٗ اُعِيْذُكَ بِاللهِ يَآ اَبَتَاهُ مِنَ الضُّعْفِ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ اِيْتِيْنِىْ بِالْكِسَآءِ الْيَمَانِىْ فَغَطِّيْنِى بِهٖ فَاَتَيْتُهٗ بِهٖ وَصِرْتُ اَنْظُرُ اِلَيْهِ وَ اِذَا وَجْهُهٗ يَتَلَالَؤُ كَاَنَّهُ الْبَدْرُ فِىْ لَيْلَةِ تَمَامِهٖ وَ كَمَالِهٖ.  فَمَا كَانَتْ اِلَّا سَاعَةً وَّ اِذَا بِوَلَدِىَ الْحَسَنِ قَدْ اَقْبَلَ وَ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَآ اُمَّاهُ فَقُلْتُ وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا قُرَّةَ عَيْنِىْ وَ ثَمَرَةَ فُؤَادِىْ فَقَالَ يَا اُمَّاهُ اِنِّىْٓ اَشُمُّ عِنْدَكِ رَآئِحَةً طَيِّبَةً كَاَنَّهَا رَآئِحَةُ جَدِّىْ رَسُوْلِ اللهِ فَقُلْتُ نَعَمْ اِنَّ جَدَّكَ تَحْتَ الْكِسَآءِ فَاَقْبَلَ الْحَسَنُ  نَحْوَ الْكِسَآءِ وَ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا جَدَّاهُ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَتَاْذَنُ لِىْ اَنْ اَدْخُلَ مَعَكَ تَحْتَ الْكِسَآءِ فَقَالَ وَ عَلَيكَ السَّلَامُ يَا وَلَدِىْ وَ يَا صَاحِبَ حَوْضِىْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَ مَعَهٗ تَحَتَ الِكِسَآءِ. فَمَا كَانَتْ اِلَّا سَاعَةً وَّ اِذَا بِوَلَدِىَ الْحُسَيْنِ  قَدْ اَقْبَلَ وَ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَآ اُمَّاهُ فَقُلْتُ وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا وَلَدِىْ وَ يَا قُرَّةَ عَيْنِىْ وَ ثَمَرةَ فُوَادِىْ فَقَالَ لِىْ يَآ اُمَّاهُ اِنِّىْٓ اَشُمُّ عِنْدَكِ رَآئِحَةً طَيِّبَةً كَاَنَّهَا رَآئِحَةُ جَدِّىْ رسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَ اَلِهٖ فَقُلْتُ نَعَمْ اِنَّ جَدَّكَ وَ اَخَاكَ تَحْتَ الْكِسَاءِ فَدَنَى الْحُسَيْنُ نَحْوَ الْكِسَاءِ وَ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا جَدَّاهُ اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَنِ اخْتَارَهُ اللهُ اَتَاْذَنُ لِىْٓ اَنْ اَكُوْنَ مَعْكُمَا تَحْتَ الْكِسَآءِ فَقَالَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا وَلَدِىْ وَ يَا شَافِعَ اُمَّتِىْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَ مَعَهُمَا تَحْتَ الْكِسَآءِ. فَاَقْبَلَ عِنْدَ ذٰلِكَ اَبُو الْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ اَبِيْطَالِبٍ وَ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا بِنْتَ رَسُوْلِ اللهِ فَقُلْتُ وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَآ اَبَا الْحَسَنِ وَ يَآ اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ  فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ اِنِّىْ اَشُمُّ عِنْدَكِ رَآئِحَةً طَيِّبَةً كَاَنَّهَا رَائِحَةُ اَخِىْ وَ ابْنِ عَمِّىْ رَسُوْلِ اللهِ فَقُلْتُ نَعَمْ هَا هُوَ مَعَ وَلَدَيْكَ تَحْتَ الْكِسَآءِ فَاَقْبَلَ عَلِىٌّ نَحْوَ الْكِسَآءِ وَ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَتَاْذَنُ لِىْ اَنْ اَكُوْنَ مَعَكُمْ تَحْتَ الْكِسَآءِ وَ قَالَ لَهٗ وَ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَآ اَخِىْ يَآ وَصِيِّىْ وَ خَلِيْفَتِىْ وَ صَاحِبَ لِوَآئِىْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَ عَلِىٌّ تَحَتَ الْكِسَآءِ. ثُمَّ اَتَيْتُ نَحْوَ الْكِسَآءِ وَ قُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَآ اَبَتَاهُ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَتَأذَنُ لِىْ اَنْ اَكُوْنَ مَعَكُمْ تَحْتَ الْكِسَآءِِ وَ قَال وَ عَلَيْكِ السَّلَامُ يَا بِنْتِىْ وَ يَا بِضْعَتِىْ قَدْ اَذِنْتُ لَكِ فَدَخْلتُ تَحْتَ الْكِسَآءِ. فَلَمَّا اكْتَمَلْنَا جَمِيْعًا تَحْتَ الْكِسَآءِ اَخَذَ اَبِىْ رَسُوْلُ اللهِ بِطَرَفَىِ الْكِسَآءِ وَ اَوْمَىءَ بِيَدِهِ الْيُمْنٰى اِلَى السَّمَآءِ وَ قَالَ اَللّٰهُمَّ اِنَّ هٰؤُلَآءِ اَهْلُ بَيْتِىْ وَ خَاصَّتِىْ وَ حَآمَّتِىْ لَحْمُهُمْ لَحْمِىْ وَ دَمُهُمْ دَمِىْ يُؤْلِمُنِىْ مَا يُؤْلِمُهُمْ وَ يَحْزُنُنِىْ مَا يَحْزُنُهُمْ اَنَا حَرْبٌ لِّمَنْ حَارَبَهُمْ وَ سِلْمٌ لِّمَن ْسَالَمَهُمْ وَ عَدُوٌّ لِّمَنْ عَادَاهُمْ وَ مُحِبٌّ لِّمَنْ اَحَبَّهُمْ اِنَّهُمْ مِنِّىْ وَ اَنَا مِنْهُمْ فَاجْعَلْ صَلَوٰتِكَ وَ بَرَكَاتِكَ وَ رَحْمَتَكَ وَ غُفْرَانَكَ وَ رِضْوَانَكَ عَلَىَّ وَ عَلَيْهِمْ وَ اَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِّرْهُمْ تَطْهِيْرًا. فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ يَا مَلَآئِكَتِىْ وَ يَاسُكَّانَ سَمٰوٰتِىْ اِنِّىْ مَا خَلَقْتُ سَمَآءً مَّبْنِيَّةً وَّ لَا اَرْضًا مَّدْحِيَّةً وَّ لَا قَمَرًا مُّنِيراً وَ لَا شَمْسًا مُّضِيٓئَةً وَّ لَا فَلَكاً يَّدُوْرُ وَ لَا بَحْرًا يَّجْرِىْ وَ لَا فُلْكاً يَّسْرِىْٓ اِلَّا فِىْ مَحَبَّةِ هٰؤُلَآءِ الْخَمْسَةِ الَّذِيْنَ هُمْ تَحْتَ الْكِسَآءِ فَقَالَ الْاَمِيْنُ جَبْرَائِيْلُ يَا رَبِّ وَ مَنْ تَحْتَ الْكِسَآءِ فَقَالَ عَزَّ وَ جَلَّ هُمْ اَهْلُ بَيْتِ النُّبُوَّةِ وَ مَعْدِنُ الرِّسَالَةِ هُمْ فَاطِمَةُ وَ اَبُوْهَا وَ بَعْلُهَا وَ بَنُوْهَا. فَقَالَ جَبْرَآئِيْلُ يَا رَبِّ اَتَأْذَنُ لِىْٓ اَنْ اَهْبِطَ اِلَىْ الْاَرْضِ لِاَكُوْنَ مَعَهُمْ سَادِسًا فَقَالَ الله ُ نَعَمْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَهَبَطَ الْاَمِيْنُ جَبْرَائِيْلُ وَ قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَلْعَلِىُّ الْاَعْلٰى يُقْرِئُكَ السَّلَامُ وَ يَخُصُّكَ بِالتَّحِيَّةِ وَالْاِكْرَامِ وَ يَقُوْلُ لَكَ وَ عِزَّتِىْ وَ جَلَآلِىْ اِنِّىْ مَا خَلَقْتُ سَمَاءً مَّبْنِيَّةً وَّ لَا اَرْضًا مَّدْحِيَّةً وَّ لَا قَمَرًا مُّنِيْرًا وَّ لَا شَمْسًا مُّضِٓيْئَةً وَّ لَا فَلَكًا يَّدُوْرُ وَ لَا بَحْراً يَّجْرِىْ وَ لَا فُلْكًا يَّسْرِىْ اِلَّا لِاَجْلِكُمْ وَ مَحَبَّتِكُمْ وَ قَدْ اَذِنَ لِىْ اَنْ اَدْخُلَ مَعَكُمْ فَهَلْ تَاْذَنُ لِىْ يَا رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَآ اَمِيْنَ وَحْىِ اللهِ اِنَّهٗ نَعَمْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَ جَبْرَآئِيْلُ مَعَنَا تَحَتَ الْكِسَآءِ ﴿صلوات﴾ فَقَالَ لِاَبِىْ اِنَّ اللهَ قَدْ اَوْحىٰٓ اِلَيْكُمْ يَقُوْلُ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْراً فَقَالَ عَلِىٌّ لِاَبِىْ يَا رَسُوْلَ اللهِ اَخْبِرْنِى مَا لِجُلُوْسِنَا هٰذَا تَحْتَ الْكِسَآءِ مِنَ الْفَضْلِ عِنْدَ اللهِ فَقَالَ النَّبِىُّ وَ الَّذِىْ بَعَثَنِىْ بِالْحَقِّ نَبِيًّا وَّاصْطَفَانِىْ بِالرِّسَالَةِ نَجِيًّا مَّا ذُكِرَ خَبَرُنَا هٰذَا فِىْ مَحْفِلٍ مِّنْ مَحَافِلِ اَهْلِ الْاَرْضِ وَ فِيْهِ جَمْعٌ مِّنْ شِيْعَتِنَا وَ مُحِبِّيْنَا اِلَّا و َنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْ بِهِمُ الْمَلَآئِكَةُ وَاسْتَغْفَرَتْ لَهُمْ اِلٰى اَنْ يَّتَفَرَّقُوْا فَقَالَ عَلِىٌّ اِذاً وَّ اللهِ فُزْنَا وَ فَازَ شِيْعَتُنَا وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ فَقَالَ النَّبِىُّ ثَانِيًا يَا عَلِىُّ وَ الَّذِىْ بَعَثَنِىْ بِالْحَقِّ نَبِيًّا وَّاصْطَفَانِىْ بِالرِّسَالَةِ نَجِيًّا مَّا ذُكِرَ خَبَرُنَا هٰذَا فِىْ مَحْفِلٍ مِّنْ مَحَافِلِ اَهْلِ الْاَرْضِ وَ فِيْهِ جَمْعٌ مِّنْ شِيْعَتِنَا وَ مُحِبِّيْنَا وَ فِيْهِمْ مَهْمُوْمٌ اِلَّا وَ فَرَّجَ اللهُ هَمَّهٗ وَ لَا مَغْمُوْمٌ اِلَّا وَ كَشَفَ اللهُ غَمَّهٗ وَ لَا طَالِبُ حَاجَةٍ اِلَّا وَ قَضَى اللهُ حَاجَتَهٗ فَقَالَ عَلِيٌّ اِذًا وَّ اللهِ فُزْنَا وَ سُعِدْنَا وَ كَذٰلِكَ شِيْعَتُنَا فَازُوْ وَ سُعِدُوْا فِى الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ.