روزہ رکھنا ایک عظیم عبادت ہے۔ اور یہ اُمت محمدی ﷺ کا ایک شرف ہے کہ خدا نے اس عبادت کو ان کے لئے فرض قرار دیا ہے۔ اس عبادت سے نہ صرف یہ کہ قربِ خدا حاصل ہوتا ہے بلکہ مومن تقویٰ کی منزل پر بھی فائز ہو جاتا ہے۔
(سورہ بقرہ، آیت۱۸۳)
اور شاید اسی لئے مسلمانوں کو ہر مہینے میں کم از کم تین دن روزہ رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ بزرگانِ دین اکثر و بیشتر حالتِ صیام میں رہا کرتے تھے۔ ماہِ رمضان کے علاوہ سال کے بقیہ دنوں میں روزہ ان ایام میں رکھا جاتا ہے جو کسی نہ کسی فضیلت و برکت کے حامل ہیں مثلاً روزِ بعثت سرورِ کائنات ۲۷ رجب وغیرہ۔ تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عاشورہ بھی کسی شرف یا برکت کا حامل ہے کہ اس دن روزہ رکھنا فضیلت ہے ؟
تمام عالمِ اسلام یہ جانتا ہے کہ عاشورہ کے دن نواسۂ رسول ﷺجگر گوشہ ٔ علی و بتول﷦ کو ان کے پورے گھر کے ساتھ تین شب و روز کی بھوک و پیاس کے ساتھ نہایت ہی مظلومی اور غریب الوطنی کی حالت میں کربلا میں ۶۱ھ؁ میں شہید کیا گیا اور ان کا قاتل بنی اُمیّہ کا بد نصب، بد عمل، بد شعار، شرابی بادشاہ یزید ابن معاویہ ہے۔اس واقعہ کا اثر یہ ہے کہ آج بھی لوگ حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔ جو بنی اُمیّہ اور ان کے کارندوں کو ہمیشہ ناگوار رہا ہے۔ انھوں نے چاہا تھا حسین کو ختم کر دیں اور حسینیت کو مٹاد یں مگر ان کا سارا منصوبہ ناکامیاب رہا۔ اسی کوشش میں ایک یہ بھی کوشش تھی کہ لوگوں میں عاشورہ کی برکت ظاہر کرنے کے لئے اس دن کے روزہ کو رائج کیا جائے اور اس ضمن میں احادیث بھی گڑھی گئی ہیں۔
احادیث کا جائزہ
عاشورہ کے روزے کے متعلق جو احادیث بیان کی گئی ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں ۱۵ تو صحیح مسلم میں ۱۷ روایات ہیں اور ان میں بھی تکرار ہے یعنی مختلف اسناد سے وہی روایت بیان ہوئی ہے۔ جب کہ سننِ ابی دائود اور مئوّطاء مالک میں صرف ایک ہی حدیث ملتی ہے۔یعنی ان بزرگ محدثین نے بھی اس میں کوئی خاص بات نہیں پائی ہے۔
ان روایات میں بھی دو طرح کی روایتیں ہیں، ایک وہ جو اس کی فضیلت ظاہر کرتی ہیں اور روز ہ رکھنے کا شرف بتارہی ہیں۔اور دوسرے جو اس روز ہ کے اندر کوئی خاص بات ظاہر نہیں کرتی ہیں۔ اِن تمام احادیث میں جو روایتیں عائشہ سے نقل ہوئی ہیں ان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چونکہ اسلام آنے سے پہلے قریش اس دن روزہ رکھتے تھے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے بھی اس دن روزہ رکھا مگرجب ماہِ رمضان کے روزوں کا حکم آیا تو آپ نے عاشورہ کے روزے کو ترک کر دیا۔
(صحیح بخاری، کتاب ۳۱،حدیث نمبر ۱۱۷، ۲۱۹،۲۲۰، اور کتاب ۶۰، حدیث نمبر ۲۹، ۳۱؛ صحیح مسلم، کتا ب ۶، حدیث نمبر ۲۴۹۹، ۲۵۰۲، ۲۵۰۳، ۲۵۰۴)
بطورِ نمونہ یہ روایت حاضر ہے۔
صحیح مسلم کتاب ۶، حدیث نمبر ۲۴۹۹۔

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ اَبِیْهِ عَنْ عَائِشَةَ۔ قَالَتْ كَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَاءَ یَوْمًا تَصُوْمُه قُرَیْشٌ فِیْ الْجَاهلِیَّةِ وَ كَانَ رَسُوْلُ الله (ﷺ) تَصُوْمُه فِیْ الْجَاهلِیَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ الله (ﷺ) الْمَدِیْنَةَصَامَه بِصِیَامِه۔ فَلَمَّافُرِضَ رَمَضَانَ كَانَ هوَ الْفَرِیْضَةَ وَ تُرِكَ عَاشُوْرَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَه وَ مَنْ شَاءَ تَرَكَه

…ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے انھوں نے عائشہ سے نقل کیا ہے کہ روزِ عاشورہ قریش روزہ رکھتے تھے اور رسول اللہﷺ بھی اسلام آنے سے قبل اس روزے کے پابند تھے اور مدینہ آنے کے بعد بھی آپﷺ اس سلسلے کو جاری رکھا۔ پھر جب ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دئیے گئے تو آپﷺ نے عاشورہ کا روزہ ترک کر دیا۔ پس جو چاہے اس روزے کو رکھے اور جو چھوڑنا چاہے وہ اسے چھوڑ دے۔
اسی طرح کی حدیث ایک اور جلیل القدر صحابی عبداللہ بن عمر (جو خلیفۂ دوم کے فرزند ہیں ) سے بھی نقل ہے۔
(صحیح بخاری کتاب ۳۱ حدیث نمبر ۱۱۶، صحیح مسلم کتاب ۶ حدیث نمبر ۲۵۱۰)
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہِ رمضان کے روزہ فرض ہونے کہ بعد عاشورہ کے روزے کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔کیونکہ خود آنحضرت ﷺنے بھی اسے ترک کر دیا۔ تواس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ روزِ عاشورہ کوئی خوشی کا دن نہیں ہے۔
دوسری طرح کی روایات جو بیان کی جاتی ہیں وہ بتاتی ہیں کہ جب رسول اللہﷺ ہجرت کے بعد واردِ مدینہ ہوئے اور یہاں کے یہودیوں کو عاشورہ کے روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو آپﷺ نے بھی عاشورہ کا روزہ رکھنا شروع کر دیا۔ یہ روایت عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب ۳۱، حدیث نمبر ۲۲۲)

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ (ﷺ) الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ فَسُئِلُوا عَنْ ذٰلِكَ فَقَالُوا هٰذَا الْيَوْمُ الَّذِي اَظْهَرَ اللهُ فِيهِ مُوْسٰى عَلٰى فِرْعَوْنَ وَنَحْنُ نَصُومُهٗ تَعْظِيمًا لَهٗ‏.‏ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ (ﷺ) نَحْنُ اَوْلٰى بِمُوسٰى مِنْكُمْ‏ وَاَمَرَ بِصِيَامِهٖ.

ابن عبّاس فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺمدینہ تشریف لائے اور آپ نے دیکھا کہ یہودی عاشورے کو روزہ رکھتے ہیں تو آپ نے اس روزے کے بارے میں دریافت کیا۔ لوگوں سے پتہ چلا کہ اس دن اللہ نے جناب موسیٰ کو فرعون پر کامیابی عطاکی تھی اس لئے وہ لوگ اس کے شکرانہ میں روزہ رکھتے ہیں۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہم تم سے زیادہ موسیٰ سے قریب ہیں اور آپ نے روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
اس روایت پر اعتبار کرنا غلط ہو گا۔ اس کی مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔
اوّلاً: راوی:
اس حدیث کے راوی ابن عباس ہیں جو ہجرت رسول ﷺکے وقت چار سالہ بچے تھے اور آنحضرتﷺ کی رحلت کی ان کی عمر ۱۳ سال یا ۱۴ سال تھی۔ اہلِ تسنّن ان کی روایت ’’المیۂ جمعرات ‘‘(جس میں آنحضرت ﷺ کے ذریعہ قلم و کاغذ طلب کرنے کا ذکر ہے )اس لئے قبول نہیں کرتے کیونکہ رحلت رسول ﷺ کے وقت عبداللہ ابن عباس کمسن تھے اور اس لائق نہیں تھے کہ ان کی روایت قبول کی جائے۔بس اسی بناء پر آپ کی بیان کردہ یہ روایت بھی مسترد ہوئی کیونکہ اس وقت آپ بہت چھوٹے تھے۔صرف چار سال۔
یہی نقص اس روایت کے دوسرے راویوں میں بھی ہے۔ عائشہ، معاویہ ابن ابی سفیان۔ ابوہریرہ یہ بہت کمسن تھے اور ابو موسیٰ اشعری اس وقت مدینہ میں موجود نہیں تھے جب رسول اللہ ﷺواردِ یثرب ہوئے۔
ثانیاً: قرآن کی مخالفت
سورہٴ بقرہ، آیت ۱۲۰

وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ۝۰ۭ قُلْ اِنَّ هُدَى اللهِ هُوَالْهُدٰى۝۰ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَاۗءَهُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ۝۰ۙ مَا لَكَ مِنَ اللهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ۝۱۲۰ؔ

یہودی اور نصاریٰ آپ سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک کہ آپ ان کی اتباع نہ کریں، کہہ دیجئے کہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت یہی دراصل ہدایت ہے۔ اور اگر آپﷺ نے ان کی خواہشات کی اتباع کی، اس کے باوجود کہ آپ تک علم آ چکا ہے، تواللہ کی طرف سے نہ آپ کا کوئی ولی ہو گا اور نہ ہی کوئی مددگار ہو گا۔
اس آیت میں واضح طور پر یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ یہودیوں کی رسومات (ملت)سے آپﷺ کو دور رہنا ہے اور بالکل ان کی اتباع نہیں کرنا ہے کسی بھی معاملہ میں۔ اور خود آنحضرت ﷺ یہودیوں کی مخالفت پر ہمیشہ راضی و خوش رہتے تھے۔ یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کو یہ بات بھی ناگوار تھی کہ یہودیوں اور مسلمانوں کا قبلہ ایک ہی ہو (سورہ بقرہ ۱۴۴-۱۴۵)بلکہ آپ کی درخواست پر خدا نے مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے ہٹا کر کعبہ قرار دیا۔ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو یہودیوں سے اتنی بھی موافقت پسند نہ ہو تو کیا وہ ان کے کہنے پر عاشور کے روزے کا حکم دیں گے؟؟؟
دوسرے یہ کہ اگر بنی اسرائیل اور جناب موسیٰ کی کامیابی کا دن فضل و شرف کا ہوتا تو خود خدا آنحضرت ﷺ کو جبرئیل کے ذریعے مطلع کرتا۔ یہودیوں کی بات پر اعتبار کرنا جنھوں نے اپنے دین میں تحریف کی ہے۔ کہاں تک صحیح ہے؟
ثالثاً: یہودیوں کا کیلنڈر
کیونکہ رسول اللہ ﷺنے یہودیوں کے کہنے پر اور ان کے بتائے ہوئے دن پر روزہ رکھا تھا اس لئے یہ ضروری ہے کہ ان کے کیلنڈر کو سمجھا جائے۔ یہودیوں کے یہاں کیلنڈر اسلامی کیلنڈ ر کی طرح نہیں ہے۔ ان کا کیلنڈر شمسی و قمری دونوں ہے جب کہ اسلامی خالصاً قمری ہے۔اسلامی کیلنڈر میں مہینے کسی دن یا موسم کے پابند نہیں۔ کسی بھی مہینے کو لے لیجئے کبھی سردی میں آتا ہے۔ کبھی گرمی میں تو کبھی برسات میں۔ اس طرح ماہِ محرم بھی کسی بھی شمسی ماہ میں آتا ہے مثلاً کبھی جنوری کبھی فروری کبھی مارچ تو کبھی اپریل میں آسکتا ہے۔ جب کہ یہودی مہینے ایسے نہیں ہوتے ان کا پہلا مہینہ نسان Nissanہمیشہ مارچ اپریل میں ہی آتا ہے (دیکھئے www.chabad.orgاور www.hebcal.orgیہ دونوں یہودیوں کی websiteہیں )
حدیث میں جس دن کا ذکر ہو رہا ہے اس دن سارے یہودی روزہ رکھتے ہیں وہ یہودی سال کا ساتواں مہینے تشری Tishriکا دسواں دن Yom Kippur۔یہ دن ستمبر کی کسی تاریخ کو منایا جاتا ہے ) اس لئے روزِ عاشور کے روزے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ کیونکہ بنی اسرائیل کا محرّم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ اگر کسی یہودی سے اس دن کے بارے میں پوچھا جائے کہ وہ کون سا دن ہے جس دن وہ موسیٰ کی فرعون کی کامیابی کا جشن مناتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں ؟ تو وہ بتائیں گے کہ وہ ان کے سال کا پہلے مہینے Nissanنسان کا پندرہواں دن ہے جسے Passoverکہتے ہیں جو انگریزی سال كے حساب سے اپریل میں ہر سال آتا ہے اور اس دن روزے کا خاص چلن نہیں ہے بلکہ وہ خوشی میں شراب پیتے ہیں۔ بلکہ روزہ ساتویں ماہ Tishriکے دسویں دن رکھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب جناب موسیٰ اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف پلٹے تو انھیں بُت پرستی کرتے ہوئے پایا۔ آپ سخت ناراض ہوئے اور ان کے اس عظیم گناہ کی مغفرت طلب کرنے کے لئے آپ نے روزہ رکھا اور انھیں بھی روزے کا حکم دیا۔تب سے سارے یہودی اس دن اپنے گناہوں کے کفارے کے لئے روزہ رکھتے ہیں۔ اور اسے Day of atonementروزِ کفّارہ بھی کہتے ہیں۔ اور یہ دن نہ کوئی عید ہے نہ اس سے کوئی خوشی وابستہ ہے۔
الغرض یہ کہ عاشورہ کا روزہ اور اس دن کی فضیلت ایک من گھڑت کہانی ہے۔ اس کا حقیقت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ یہ سب بنی اُمیّہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کی سازش ہے۔ مسلمانوں میں داستانِ موسیٰ کا بہانہ بنا کر شہادت نواسۂ رسولﷺ کو چھپا دو تا کہ قاتلانِ امام حسین کے جُرم کی پردہ پوشی ہو جائے۔ حقیقت کو کوئی چھپا نہیں سکتا عاشورہ محرم ایک غم کا دن ہے ایک مظلوم کی شہادت کا دن ہے جس نے اسلام کو حیات دی اور تا روزِ قیامت یومِ الم رہے گا۔