عزاداریِٔ حضرت سید الشہداء علیہ السلام ایک عظیم عبادت ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ یہ عظیم عبادت اہلِ تولّا اور اہلِبیت علیہم السلام کے ماننے والوں کی شناخت ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جس پر تمام اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والے جمع ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ نادان لوگوں کی نادانی کے سبب یہ مراسمِ عزا عزاداروں کے درمیان اختلاف اور پھوٹ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پر اِن چیزوں سے قوم میں فتنہ پھیلاتے ہیں۔ اس فتنہ کی لپیٹ میں ذاکرین خطباء اور علماء کو بھی گھسیٹ لیا جاتا ہے اور اختلافِ رائے کی وجہ سے معاملہ اور اُلجھ جاتا ہے۔ حالانکہ اِن چیزوں سے قوم کا کچھ بنتا ہے نہ بگڑتا ہے۔

شریعت کے معاملات حُکمِ شریعہ کے ذریعے عمل میں لائے جاتے ہیں اور وہ سب وقت و شرائط کے پابند ہوتے ہیں۔ اسی لئے احکامِ شریعہ لفظ کا استعمال کیاجاتا ہے۔ اسی طرح اخلاق و آداب کے اپنے سلیقے ہوتے ہیں اور اُن پر عمل کرنا اُس عمل کو مزید مُستحسن بنا دیتا ہے مثلاً آداب زیارت ، آدابِ معاشرت وغیرہ اور یہ چیزیں کتابوں میں درج ہیں مگر عزاداری اس سے مختلف ہے۔ یہ عمل تو بس ماننے والوں کے جزبۂ گریہ اور خلوص کاعکّاس ہوتا ہے۔ عزا کے سلسلے میں جو کچھ کارکردگیاں انجام ,پاتی ہیں اِن کے لئے لفظِ ’’مراسمِ عزا‘‘ استعمال ہوتا ہے۔ مراسم لفظ جمع ہے ’رسم‘ کی ۔ علماء فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو عقیدہ کے خلاف نہ ہو اور نہ ہی شریعت کی نظر میں حرام ہو، عزاداری میں اِن رسوم کو برتنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ اگر ان چیزوں سے دیکھنے والے پر گریہ کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو یہ مراسمِ عزا کہلاتے ہیں۔اور یہ مختلف سماج اور دستور کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں مثلاً ہندوستان کے کچھ علاقوں کے لوگ ایّامِ عزا میں گوشت کھانا ترک کر دیتے ہیں تو کچھ اور علاقوں کے لوگ مچھلی کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔ اسی طرح تابوت، علمِ مبارک، ذوالجناح کا برآمد کرنا بھی مراسمِ عزا میں شامل ہے۔ ان سب میں جنابِ قاسم علیہ السلام کی مہندی کا جلوس نکالنا بھی آتا ہے۔ بدقسمتی سے اِس مہندی کی بابت لوگوں میں اختلافِ رائے ہے۔

جناب قاسم علیہ السلام کی مہندی:

جو لوگ جناب قاسم علیہ السلام کی مہندی نکالتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اپنے یتیم بھتیجے قاسم علیہ السلام کا نکاح اپنی ایک دختر سے روزِ عاشورہ کیا تھا۔ (بحوالہ کتاب مدينة المعاجز ۔ سید ہاشم بحرانی، معجزات امام حسن علیہ السلام ، کتاب بحر الانساب ، سید مرتضیٰ ، کتاب معالیُ السبطین جلد ۱، ریاض القدس جلد۲، کتاب روضتہ الشہداء ، ملّا حسین کاشفی سبزواری وغیرہ) اُس روز کی مصیبت اور غریب الوطنی کے حالات میں جناب قاسم علیہ السلام کی ماں کے ارمان نہ نکل پائے۔ اُن کے بیٹے کے ہاتھ پر مہندی کا رنگ نہ چڑھا بلکہ انھوں نے اپنے امامِ وقت کی نصرت میں اپنی جان گنوا دی یہ مہندی اُس بیوہ ماں کے ارمان کی یاد دلاتی ہے جس سے اہلِ عزا گریہ کرتے ہیں اور مُثاب ہوتے ہیں۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ کربلا میں نہ مہندی نکلی تھی اور نہ ہی عرب میں شادیوں میں مہندی کا دستور ہے۔اِس کے باوجود مہندی کا نکلنا نہ تو حرام ہے اور نہ ہی کسی کے عقیدہ کو خراب کرتا ہے۔اِ سطرح اس کے جائز ہونے میں اور رسمِ عزاداری ہونے میں کیا حرج ہے؟

کیا جنابِ قاسم علیہ السلام کا نکاح ہوا تھا؟

اس مہندی کا نکالنا یا  نا نکالنے کے سوال سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ’’کیا امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھتیجے کا نکاح اپنی دختر سے کیا تھا؟‘‘ ۔ اور اگر یہ عقد ہوا ہے تو امام حسین علیہ السلام کی کس دختر سے ہوا ہے؟ ۔روایت میں کیونکہ امام حسین علیہ السلام کی دختر کانام نہیں بتایا گیا ہے اس لئے اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے مگر اس سے روایت کا یا عقد قائم ہونے کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔(اور یہ بات بھی غلط ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی صرف تین ہی بیٹیاں تھیں۔ بحارالانوار جلد ۴۵) جو لوگ اس عقد کو نہیں مانتے اُن کا کہنا ہے کہ غیر ممکن ہے اور خلافِ عقل ہے کہ اُس مصیبت کے موقع پر امام حسین علیہ السلام اِس طرح کی تقریب کو عمل میں لائیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ روزِ عاشورہ امام حسین علیہ السلام کو نمازِ خوف ادا کرنے کی بھی مہلت نہ ملی اور دشمن کے مستقل حملے ہوتے رہے تو اُس مصیبت کے موقع پر کہاں اتنی مہلت تھی کہ قاسم علیہ السلام کی شادی کی جائے؟

 

منطقی سوال کا منطقی جواب :

جو لوگ اس شادی کے قائم ہونے کو مانتے ہیں اُن کے پاس اپنے دلائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔ نکاح ایک سنّت مُوکدّہ عمل ہے اور ایک عظیم عبادت ہے ۔ خدا کے نزدیک ایک مجرّد (غیر شادی شدہ)جوان کی منزلت کم ہے بہ نسبت اُ س جوان کے کہ جس کا نکاح ہوا ہے۔ اُس کی ہر عبادت کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ خدا کے نزدیک ایک شادی شدہ مرنے والے کی زیادہ منزلت ہے بہ نسبت کنوارے مرنے والے کے۔ شادی شدہ شخص کی ایک رکعت نماز خدا کے نزدیک غیر شادی شدہ شخص کی ستّر(۷۰)رکعت نماز کے برابر ہے۔ اِس لئے امام حسین علیہ السلام چاہتے تھے کہ قاسم علیہ السلام کی قربانی پیشِ پروردگار زیادہ وزنی ہو اور اُن کو شہادت میں بھی زیادہ ثواب نصیب ہو۔ رہی بات یہ کہ دشمن نے امام حسین علیہ السلام اور اُن کے اصحاب کو نماز پڑھنے کی مہلت اس لئے نہیں دی کیونکہ ملعون دشمن آپ علیہ السلام کی نماز کو عبس جانتا تھااور اُن کے لعین ابن لعین سردار کو اپنے لشکر کو یہ ظاہر کرنا تھا کہ (نعوذُ باللہ ) حسین علیہ السلام کی نماز صرف ایک ڈھونگ ہے۔

 

 کیا یہ روایت ضعیف ہے؟

یہ بھی ایک شبہ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے اور علماء نے اس روایت کو قبول نہیں کیا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ یہ کتاب روضتہ الشہداء کی ایجاد ہے۔ یہ کتاب دسویں صدی ہجری میں لکھی گئی ہے اور اس سے پہلے کسی کتاب میں اس نکاح کا ذکر نہیں ہے۔اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ کچھ علماء و محقیقین نے اس نکاح کی روایت کو قبول بھی کیا ہے اور اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔مثلاً معالی السبطین ، ریاض القدس ، مدینتہ المعاجز ، کتاب مجمع البحرین وغیرہ۔ یہ کہنا کہ یہ روایت دسویں صدی سے پہلے کسی کتاب میں نہیں ہے، درست نہیں ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ واقعہ علم الھدیٰ سید مرتضیٰ نے اپنی کتاب بحرالانساب صفحہ ۲۴ پر نقل کیا ہے۔ سید مرتضیٰ چوتھی صدی ہجری کے جلیل القدر اور بزرگ عالم تھے ۔ (اُن کی روایت کو علامہ دربندی نے اپنی کتاب انساب آل ابی طالب میں بھی نقل کیا ہے)۔ سید مرتضیٰ کی روایت میں امام حسین علیہ السلام کی دختر جن کاعقد جناب قاسم علیہ السلام سے ہوا ہےکا نام (فاطمہ)زبیدہ بتایا گیا ہے۔(یہاں یہ بات واضح کر دوں کہ امام حسن علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے جناب حسن ابن حسن کا عقد فاطمہ صغریٰ سے ہوا تھا جو امام حسین علیہ السلام کی دوسری دختر کا نام تھا۔ حوالہ : بحار الانوار جلد۴۴)

ہمارا مقصد اس مقالہ سے صرف اتنا ہے کہ یہ موضوع اتنا اہم نہیں ہے کہ اسکی تفصیلات پر توجہ دی جائے ۔ اس عقد سے نہ تو ہمارے عقیدہ کو کچھ نفع و نقصان پہنچتا ہے اور نہ ہی یہ مصائب کربلا اور عظمتِ شہداء علیہم السلام کو کم کرتا ہے۔ جو لوگ اِ س شادی کے واقع ہونے کو مانتے ہیں وہ بھی صحیح ہیں اور جو اس کے قائل نہیں ہیں اُن کی بھی اپنی دلیل ہے۔بہتر یہ ہے کہ ہر ایک اپنے طور پر اس کو منائے مگر دوسرے پر اپنی رائے مسلّط کرنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ اس سے صرف فتنہ ہوتا ہے اور بقولِ قرآن فتنہ پھیلانا قتل کرنے سے بھی بدتر گناہ ہے۔ تو بہتر یہی ہے کہ ہم سب اہلِ عزا مل کر جناب سیّدہ سلام اللہ علیہا کو صرف اُن کے مظلوم لال کا پُرسہ دینے کی کوشش کریں اور ہر اُس چیز سے گریز کریں جس سے اِتّحاد پر اثر پڑتا ہے یا لوگوں کی توجّہ عزاداری سے ہٹ جاتی ہے۔ ہمیں کوشش یہ کرنی چاہئیے کہ اس عزاداری کو اتحاد کا مرکز بنائیں اور اختلاف کا شکار نہ ہونے دیں۔