بات تو بہت پرانی ہے مگر اس کے اثرات آج تک دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ ایسا جملہ ہے جس نے اسلام کو فرقوں میں بانٹ رکھا ہے۔ سب مسلمان ہیں سب کا خدا، اللہ وحدہٗ لا شریک ہے۔نبی محمدصلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی ذاتِ مبارک ہے۔ سب کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمدٌ الرّسول اللہ ایک ہی ہے۔ مگر پھر بھی اختلافات کی بھرمار ہے۔ وہ بھی اتنی شدید کہ ایک فرقہ دوسرے کو مسلمان تک سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ خود قرآن پر اتّحاد نہیں ہے۔کوئی  صرف ظاہرِقرآن کو مانتا ہے اُس کے لئے باطن کچھ نہیں ہے۔ کوئی صرف باطن کو اہمیت دیتا ہے اُس کے لئے ظاہر کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ہر ایک فرقہ قرآن کی آیتوں کی تفسیر و تاویل اپنے حساب سے کرتا ہے۔

الغرض قرآن جو سارے اختلاف کو دور کرنے کے لئے نازل ہوا تھا خود اختلاف کا ہدف بن چکا ہے۔ مصیبت تو یہ ہے کہ ايک مسلمان دوسرے مسلمان کا خون بہا رہاہے اور اس کا جواز قرآن سے پیش کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعاً قر آن ہدایت کے لئے کافی ہے؟ آئیے پہلے اس جملے کا پس منظر سمجھیں۔ یہ روایت صحاح ستّہ میں موجود ہے۔ اِ س واقعہ کو ابن عبّاس نقل کرتے ہیں۔ بعض روایتوں میں اس کو’’ المیہ جمعرات ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ابن عبّاس کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی بیماری نے شدّت اختیار کر لی اور آپ کی حالت زیادہ بگڑنے لگی تھی تو آپ کے اصحاب آپ کو گھیرے ہوئے تھے اُن سب کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’مجھے کاغذ اور قلم دو تاکہ میں تمہارے لئے ایک ایسا نوشتہ لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو‘‘۔ اس پر وہاں موجود لوگوں سے عمر ابن خطاب نے کہا: ’’رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم  پر بیماری کا اثر ہے(اِن کے حواس درست نہیں ہیں) ،ہماری ہدایت کے لئے خدا کی کتاب کافی ہے (ہمیں کسی دستاویز کی ضرورت نہیں ہے)۔ اس کے بعد وہاں موجود لوگوں میں توُ توُ میں میں ہونے لگی ۔ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو لکھنے دینے کے حامی تھے کچھ مخالف۔ اس طرح ایک شور شرابا ہونے لگا۔اِ س بات نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو سخت ناراض کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے سب کو وہاں سے چلے جانے کا حکم دیا………(صحیح بخاری، ج ۳، حدیث ۱۱۴،صحیح مسلم، کتاب ۱۳، حدیث نمبر ۴۰۱۶)

اس واقعہ سے یہ نتیجہ باآسانی نکالا جا سکتا ہے کہ عمر ابن خطاب کی نظر میں قرآن کی موجودگی میں کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن امّتِ مسلمہ کی ہدایت کے لئے کافی ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے ہاتھوں کا لکھا ہوا دستاویز یا اُن کے سنت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ انھوں نے اپنے دور خلافت میں احادیث نبوی کو بیان کرنے پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔ اگر کوئی صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی حدیث نقل کرتا تو وہ اُن کی نظر میں مجرم ہوتا۔ اِس طرح اُن کا فرمان تھا کہ صرف خالصاً کتاب خدا پر عمل ہو گا اور حدیث کو نقل کرنا ممنوع ہے۔ مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اُنھوں نے خود اپنے قول کا پاس نہیں کیا اور مختلف موقعوں پر قرآن کی مخالفت کی ہے۔

پہلی مخالفت: قرآن کی دلیل قبول نہیں کی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی رحلت کے فوراًبعد حکومتِ وقت نے دخترِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ  علیہا کی ملکیت باغِ فدک کو ضبط کر لیا۔ جب بی بی سلام اللہ  علیہا نے اس کا مطالبہ کیا توخلیفۂ وقت نے بطورِ استدلال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی حدیث پیش کی کہ ’’ہم گروہِ انبیاء کوئی میراث نہیں چھوڑتے بلکہ جو بھی چھوڑتے ہیں وہ اُمّت کے لئے صدقہ ہوتا ہے‘‘۔ اس حدیث کے مقابل جناب صدیقۂ طاہرہ سلام اللہ علیہا نے قرآن کی آیتوں کو پیش کیا جن میں انبیاء کی میراث کا ذکر ہے۔ اس طرح اب یہ قرآن کی واضح آیتوں اور ایک حدیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کا ٹکراؤ ہو گیا۔ اب اُمّت کو چاہیے یہ تھا کہ قرآن سے ہدایت لیتے اور جناب زہرا سلام اللہ  علیہا کی دلیل کو قبول کر لیتے مگر خود عمر نے ایسا نہیں کیا۔اُن کو بھی چاہئیے تھا کہ قرآنی دلیل کو قبول کر لیتے اور حدیث کو رد کر دیتے، کیوں کہ یہ بعینہٖ اُن کی فکر کے مطابق تھا۔ افسوس ایسا نہ ہوا، مسلمانوں کے دربار میں قرآن کی نہ سنی گئی اور خلیفہ کی بات مان لی گئی۔

دوسری مخالفت: دین میں تشدّد کا رائج کرنا

قرآن نے مختلف مقامات پر یہ اعلان کیا ہے کہ دین میں جبر نہیں ہے لَآ اِكْرَاہَ فِي الدِّيْنِ…… ہر شخص اپنے عمل کا ذمہ دار ہے کسی کے ساتھ زور زبردستی نہیں ہو گی۔ لَناَ اَعْمالُنا و لَکُم اَعمالَکُم………یہاں تک کہ کافر کو بھی اپنے مذہب پر عمل کرنے کی اجازت ہے۔(لَکُم دِینُکم ولی دین)مگر تاریخ کے اوراق میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جن سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ خلیفۂ دوّم نے اکثر اوقات تشدّد کا مظاہرہ کیا ہے۔ خود رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی دختر کے گھر پر آگ لگا دینے کی درد بھری داستان اِ س بات پر دلالت کرتی ہے کہ اُنھوں نے قرآن کی اِن تعلیمات کو پامال کر دیا۔ اور اپنے مخالفین پر ظلم و ستم کر کے قرآن کی ہدایتوں کی مخالفت کر بیٹھے۔

تیسری مخالفت: آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کو ناراض کرنا

قرآن نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے قرابت داروں سے مودّت کرنے کو اجرِ رسالت قرار دیا ہے۔ اور اُن سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک مسلمان کا افضل ترین عمل ، نماز بھی اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ آلِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم پر صلوات نہیں پڑھتا۔مگر صحیح بخاری کی روایتیں بتاتی ہیں کہ جب دخترِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم جناب سیدہ سلام اللہ علیہا اِ س دنیا سے رخصت ہوئیں تو دونوں (ابوبکر و عمر) سے سخت ناراض تھیں۔ یہاں تک کہ اِ ن دونوں کی کارکردگی کی وجہ سے اتنی غضبناک ہوئیں کہ اُن کے سلام کا جواب بھی نہیں دیا اور اپنے چہرے کو اُن کی طرف سے پھیر لیا ۔

چوتھی مخالفت: حلال کو حرام کرنا اور بدعتوں کو رائج کرنا

قرآن کی آیتوں سے یہ خوب واضح ہے کہ احکام میں کسی کو اختیار نہیں ہے کہ ردّ و بدل کرے۔ جس چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم  نے حلال بتایا وہ قیامت تک کے لئے حلال ہے اور جس چیز کو حرام کر دیا ہے تا قیامِ قیامت وہ حرام رہے گا۔(احزاب ۳۶؍اور سورۂ حشر ۷) یہاں تک کہ خود سرورِ کائنات کو بھی اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی حلال چیز کو خود اپنے اوپر حرام کر لیں۔(سورۂ تحریم:۱؍ یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک…..)مگر خلیفۂ دوّم نے اس حکم کی کھُلی مخالفت کی اور اپنے دور خلافت میں متعدد چیزوں کو رائج کیا مثلاً نماز فجر کی اذان میں ’’الصلوۃ خیرٌ من النوم‘‘ کا داخل کرنا نماز تراویح کا باجماعت ماہِ رمضان میں مسلمانوں پر فرض کرنا۔اسی طرح رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے دور میں جو متعہ جائز تھا انھوں نے حرام کر دیا ، طلاق ثلاثہ کا مسئلہ اُنھیں کی ایجاد ہے۔ یہ سارے احکام جو عمر نے صادر کئے ہیں اور آج بھی مسلمانوں میں رائج ہیں یہ سب قرآن کی مخالفت ہیں۔

سارا عالمِ اسلام اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ صرف قرآن کی آیتیں ہدایت کے لئے کافی نہیں ہیں۔ بلکہ ہر رکنِ مذہب پر عمل کرنے کے لئے احادیث و سنتِ نبوی کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ اُنھیں میں اُ س کے اصول بھی ہیں اور تفصیلات بھی۔ پھر اس جملے کا کوئی جواز نہیں رہتا کہ ’’ہماری ہدایت کے لئے قرآن کافی ہے‘‘۔ یہ جملہ صرف ایک ہتھیار کی طرح استعمال کیا گیاتھا۔ کیونکہ جس شخص نے اِس جملے کو ادا کیا تھاوہ خود قرآن کی واضح مخالفت کرتا نظر آتا ہے اس جملے کی ادائیگی صرف ایک سازش تھی اور کچھ نہیں۔