مولائے كائنات امیر المومنین علی بن ابی طالب﷣ كی ولایت اور بلا فصل خلافت و امامت پر قرآن كریم سے كئی دلائل پیش كئے گئے ہیں مگر كچھ آیتیں ایسی ہیں جن كی حیثیت امامت و خلافت كے موضوع پر شق القمر سے زیادہ محكم ہے۔ یعنی یہ آیتیں وہ ہیں جو ہمارے مولاؑ كی شان میں نازل ہوئی ہیں اور انكی ولایت، امامت اور خلافت پر دلالت كر رہی ہیں اور تمام شیعہ اور سنی علماء ان پر متفق ہیں سوائے چند متعصب اور متكبر افراد كے جن كے انكار كی بنیاد عصبیت و عناد و لجاجت پر مبنی تھی ایسی ہی چند آیتوں میں ایك آیہ ولایت ہے۔

سورۃ المائدہ: آیہ 55

تمہارا ولی صرف اللہ ہے اسكا رسول ہے اور وہ صاحبان جو نماز قائم كرتے ہیں اور حالت ركوع میں زكوۃ دیتے ہیں۔

آیئے! اس مضمون میں ہم اہل سنت كی تفاسیر میں سے چند روایات نقل كرتے ہیں جو اس آیہٴ مباركہ كے ذیل میں درج كی گئی ہیں۔

پہلی حدیث

مشہور و معروف مفسر قرآن احمد بن محمد ثعلبی اپنی تفسیر اَلْكَشْفُ وَ الْبَيَانُ میں تحریر فرماتے ہیں كہ سدی، عتبۃ بن ابی حكیم اور غالب بن عبد اللہ سے منقول ہے كہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ كے قول إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهٗ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ سے مراد علی بن ابی طالب﷣ ہیں كیونكہ جب مسجد میں حالت ركوع میں تھے ایك سائل آپ كے پاس سے گذرا تو آپؑ نے اپنی انگشتری اسے عطاكی۔

پھر ثعلبی لكھتے ہیں: ہمیں ابو الحسن محمد بن القاسم الفقیہ نے خبردی عبد اللہ بن احمد الشعرانی سے، انہوں نے ابو علی احمد بن علی بن رزین سے، انہوں نے مظفر بن حسن الانصاری سے، انہوں نے السری بن علی الورّاق سے، انہوں نے یحی بن عبد الحمید الحمانی سے، انہوں نے قیس بن ربیع سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے عبایہ بن الربعی سے اور انہوں نے نقل كیا عبد اللہ بن عباس (رضی اللہ عنہ) سے جبكہ آپ زمزم كے كنارے تشریف فرما تھے اور كہہ رہے تھے ’’قال رسول اللہ‘‘ جب ایك شخص جو عمامہ پہنے ہوئے تھا اور عمامہ سے اپنا چہرہ چھپائے ہوئے تھا كھڑا ہوا۔ اب جو جو ابن عباس كہتے تھے ’’قال رسول اللہ‘‘ وہ شخص دہراتاتھا ’’قال رسولُ اللہِ‘‘ (یعنی وہ ابن عباس كے قول كی تائید كرتا جاتا تھا كہ ہاں یقیناً یہ حدیث رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے)۔

ابن عباس نے دریافت كیا: میں تمہیں خدا كا واسطہ دیتا ہوں تم كون ہو؟ اس شخص نے اپنے چہرے پر سے نقاب ہٹائی اور كہنے لگا: اے لوگو! جو مجھے پہچانتا ہے وہ مجھے پہچانتا ہے۔ اور جو مجھے نہیں پہچانتا ہے تو وہ جان لے كہ میں جندب بن جنادہ البدری ابوذر الغفاری ہوں۔ میں نے مستقیماً پیغمبر ﷺ سے سنا ہے ورنہ میرے دونوں كان بہرے ہوجائیں اور میں نے پیغمبرﷺ كو دیكھا ہے ورنہ میری دونوں آنكھیں اندھی ہو جائیں۔ میں نے یہ سنا كہ آپ ؐ نے فرمایا:

علی﷣ نیكوكار افراد كےرہبر ہیں كفار كے قاتل ہیں، جس نے علی﷣ كی نصرت كی اسكی مدد كی جائیگی اور جس نے علی﷣ كو چھوڑ دیا ، اسے چھوڑ دیا جائیگا۔

جان لوكہ ایك روز میں نے رسول اللہﷺ كے ساتھ نماز ظہر پڑھی۔ ایك سائل نے مسجد میں آكر سوال كیا مگر كسی نے اسے كچھ نہ دیا سائل نے اپنے ہاتھوں كو آسمان كی طرف بلند كیا اور كہنے لگا

پروردگارا! تو گواہ رہنا كہ میں نے رسول اللہﷺ كی مسجد میں سوال كیا مگر مجھے كسی نے كچھ نہ دیا۔

اس وقت علی﷣ حالت ركوع میں تھے۔ آپ﷣ نے اپنے داہنے ہاتھ كو سائل كی طرف بڑھا دیا اور اس ہاتھ كی انگلی میں انگشتری تھی۔ سائل آپؑ كی طرف بڑھا اور آپ كی انگلی سے انگشتری اُتار لی یہ واقعہ پیغمبرﷺ كے حضور میں انجام پایا۔ جب آنحضرت ﷺ نماز سے فارغ ہوئے آپؐ نے اپنے سر اقدس كو آسمان كی طرف بلند كیا اور فرمایا:

پروردگارا! موسیٰ نے تجھ سے سوال كیا ’’میرے رب! میرے سینے كو میرے لئے كشادہ كردے میرے امر كو میرے لئے آسان بنادے، میری زبان كی گرہ كو كھول دے تاكہ یہ لوگ میری بات سمجھ سكیں۔ اور میرے خاندان سے میرے بھائی ھارون كو میرا وزیر معین فرما۔ انكے ذریعہ میری كمر كو مضبوطی عطا كر اور انہیں میرے امر میں شریك قرار دے۔‘‘

(سورہ طہ: آیۃ 25-32)

اس پر تونے انكے لئے جواب میں وحی فرمائی ’’عنقریب ہم آپ كے بازوؤں كو تقویت پہونچائینگے آپ كے بھائی كے ذریعہ اور تم دونوں كو غلبہ دیں گے بسبب ہماری نشانیوں كے جس كی بنا پر فرعونی تم تك پہنچ ہی نہ سكیں گے۔‘‘

(سورہ قصص: آیۃ35)

پروردگارا! میں محمدﷺ تیرا نبی اور تیرا برگزیدہ ہوں۔ پروردگارا! میرے سینے كو میرے لئے كشادہ كردے میرے امر كو آسان بنا، میرے خاندان میں سے علی﷣ كو میرا جانشین مقرر فرما اور انكے ذریعہ میری كمر كو مضبوطی عطا فرما۔

جناب ابوذر نقل كرتے ہیں: ابھی رسول اللہ ﷺ كی بات مكمل بھی نہ ہوئی تھی كہ جبرئیل﷣ آپ پر نازل ہوئے اور فرمایا: اے محمدﷺ پڑھئے! آپؐ نے دریافت كیا: كیا پڑھوں؟ جبرئیل﷣ نے كہا: پڑھئے:

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ .

(تفسیر ثبلی، ذیل سورہ مائدہ: آیہ 55)

دوسری حدیث

اہل سنت كے معتبر مصنف رزین نے اپنی كتاب ’’اَلْجَمْعُ بین الصحاح السنۃ‘‘ میں آیہ ولایت كے ذیل میں صحیح نسائی سے نقل كیا ہے كہ ابن سلام كی روایت ہے كہ میں رسول اللہ ﷺ كی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض كی ’’كچھ لوگ ہماری شدت سے مخالفت صرف اس بنا پر كرتے ہیں كہ ہم نے اللہ اور اسكے رسول كی تصدیق كی۔ وہ لوگ قسم كھاتے ہیں كہ وہ ہم سے بول چال بھی بند كر دیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ  بعد از ایں حضرت بلال﷫ نے اذان ظہر دی۔ لوگوں نے نماز شروع كی ركوع اور سجدے كے درمیان تھے كہ سائل نے سوال كیا اور علی﷣ نے اپنی انگشتری ركوع كے عالم میں دی۔ سائل نے رسول اللہ ﷺ كو خبردی جس كے بعد رسول اللہﷺ نے ان دو2؍ آیتوں كی تلاوت فرمائی۔‘‘

(الجمع بین الصحاح الستۃ، تیسرا جزء نقل از صحیح مسلم)

تیسری حدیث

موفق بن احمد نے امیر شام معاویہ اور عمرو بن العاص كے درمیان جو مكاتبہ ہوا تھا اسے نقل كرتے ہوئے لكھا ہے كہ عمرو بن العاص نے جواب میں تحریر كیا: اے معاویہ! تو جانتا ہے كہ اللہ كی كتاب میں علی﷣ كے متعدّد فضائل شامل ہیں كہ جن میں كوئی علی﷣ كا شریك نہیں ہے۔ مثلاً’’یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ‘‘ ’’جو نذر پوری كرتے ہیں‘‘

(سورہ انسان: آیہ 7)

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلوٰةَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رَاكِعُوْنَ .

(سورہ مائدہ: آیہ 55)

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ يَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتَابُ مُوْسٰى اِمَامًا وَّرَحْمَةً

(سورہ ہود: آیہ 17)

كیا جو شخص جو اپنے رب كی طرف سے دلیل پر ہو اور اسكے ساتھ اللہ كی طرف كا گواہ بھی ہو اور اس كے پہلے موسیٰ كی كتاب گواہی دے رہی ہے جو قوم كیئے پیشوا اور رحمت تھی؟

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ

مومنین میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے كیا تھا اسےسچا كر دكھایا۔

(سورہ احزاب: آیۃ 23)

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ سے فرمایا:

قُلْ لَّآ اَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلاَّ االْمَوَدَّةَ فِى الْقُرْبٰى.

(سورہ شوریٰ: آیہ 23)

كہہ دیجئے كہ میں اس پر (یعنی رسالت پر) تم سے كوئی اجر نہیں چاہتا مگر میرے رشتہ داروں كی محبت كے۔

(مناقب الخوارزمی، ص 200)

جب یہ آیت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب﷦ كی شان میں نازل ہوئی، تو شاعر رسول اكرمﷺ حسان بن ثابت نے فی البدیہ یہ قصیدہ پڑھا

أَبَا حَسَنٍ تَفْدِيكَ نَفْسِي وَ مُهْجَتِي

وَ كُلُّ بَطِي‏ءٍ فِي الْهَوَا وَ مُسَارِعٍ‏

أَ يَذْهَبُ مَدْحِي وَ الْمُحَبِّرُ ضَائِعٌ

وَ مَا الْمَدْحُ فِي جَنْبِ الْإِلَهِ بِضَائِعٍ‏

فَأَنْتَ الَّذِي أَعْطَيْتَ إِذْ كُنْتَ رَاكِعاً

فَدَتْكَ نُفُوسُ الْقَوْمِ يَا خَيْرَ رَاكِعٍ‏

فَأَنْزَلَ فِيكَ اللَّهُ خَيْرَ وَلَايَةٍ

وَ بَيْنَهَا فِي مُحْكَمَاتِ الشَّرَائِع‏

اے ابو الحسن! میری جان اور میرا خون آپ پر قربان ہو

اور ہر وہ شی جو ہوا میں اڑرہی ہو یا سیر كر رہی ہو

كیا میری مدح اور میری نوشتا رضائع ہوگی؟

نہیں ! اللہ كی راہ میں مدح كبھی ضائع نہیں ہوتی۔

آپ وہی ہیں جنہوں نے حالت ركوع میں عطا فرمایا

پورے قوم كی جانیں آپ پر قربان ہو، اے بہترین ركوع كرنے والے

پس اللہ نے آپ كے لئے بہترین ولایت نازل كی

اور انكے درمیان شریعت كے واضع قوانین موجود ہیں۔

(مناقب الخوارزمی، ص 265، كفایت الطالب، حافظ الكنجی الشافعی، باب 61، ص 228)

علاوہ از این، اہل سنت كے نامور عالم، الحافظ الكبیر عبید اللہ بن عبد اللہ بن احمد، جو اَلْحَاكم الصكافی كے نام سے معروف ہیں، نے اپنے كتاب شواہد التنزیل میں تقریباً 25 روایات نقل كی ہیں كہ یہ آیت مباركہ مولائے كائنات امیر المومنین علی بن ابی طالب﷦ كی شان میں نازل ہوئی ہے.

ان تمام اظہر من الشمس دلائل و براہین كے باوجود، كچھ افراد ایسے ہیں جنہوں نے اس حقیقت سے انكار كیا ہے اور لوگوں كے دل و دماغ میں یہ وسوسہ پیدا كرتے ہیں كہ یہ تفسیر شیعوں كہ ایجاد كردہ ہے۔ ایسے ہی ایك شخص كا نام ہے احمد بن عبد الحلیم بن تیمیہ (جو ابن تیمیہ كے نام سے جانا جاتا ہے) اپنی كتاب ‘‘منہاج السنۃ’’ كے صفحہ 156 پر وہ لكھتا ہے:

قَدْ وَضَعَ بَعْضُ الكذّابين حَدِيْثًا مُفْتَرىً أنَّ هٰذِهِ الآيٰةَ: اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلوٰةَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رَاكِعُوْنَ نَزَلَتْ فِی عَلِیٍّ لَمَّا تَصَدَّقَ بِخَاتِمِهٖ فِي الصَلوٰةِ وَ هٰذَا كِذْبٌ بِاِجْمَاعِ اَهْلِ العِلْمِ بالنَّقْلِ.

كچھ جھوٹوں نے یہ حدیث گڑھی ہے كہ یہ آیت اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُوْلُهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلوٰةَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رَاكِعُوْنَ علی كی شان میں نازل ہوئی ہے اس وقت جب آپ نے نماز میں اپنی انگشتری صدقہ كے طور سے عطا كی تمام علمائے حدیث اس پر متفق ہیں كہ یہ جھوٹ ہے۔ (ابن تیمیہ كا قول تمام ہوا)۔

افتخار علماء اہل التشیع، علامہ مجاہد اكبر شیخ عبد الحسین امینی﷫ نے اپنی گرانقدر كتاب ’’الغدیر‘‘ میں اس بیہودہ اور بے بنیاد كا جواب دیا ہے۔

(رجوع كیجئے الغدیر، ج 3، ص 156)

حقیقت یہ ہے كہ تعصب اور ہٹ دہرمی انسان كی آنكھوں پر اس طرح پردہ ڈال دیتی ہے كہ وہ حقائق ثابتہ سے انكار كرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ وہ یہ گمان كرنے لگتا ہے كہ وہ احادیث كہ جنہیں ائمہ احادیث اور حفّاظ كرام نے اپنی معتبر كتابوں میں نقل كیا ہے اور جنكی اسناد كی انتہا امیر المومنین علی بن ابی طالب ‘ابن عباس’ ابو ذر’ عمّار، جابر الانصاری، ابو رافع، انس بن مالك، مسلمہ بن كہیل اور عبد اللہ بن سلام جیسے صحابہ اور سلف صالح پر ہوتی ہے، كہیں اسے جھوٹ اور جعلی قرار دیتا ہے۔ یقیناً ابن تیمیہ كا یہ دعویٰ بھی اسكے بقیہ تمام دعووں كی طرح غلط اور بے بنیاد ہے اور جس میں اس نے یہ دعوی كرلیا ہے كہ تمام علماء كا اس پر اجماع ہے، نہ جانے زمین كے كس گڈھے میں اسنے وہ علماء پائے كہ جن كا اس حدیث كے جعلی ہونے پر اتفاق ہے!

آئیے ان علماء اور انكی كتابوں پر ایك مختصر نظر كرتے ہیں جنہوں نے اپنی كتابوں اور تصانیف میں اس شان نزول كی تائید كی ہے كہ یہ آیت علی بن ابی طالب﷦ كی شان میں نازل ہوئی ہے۔

تیسری صدی ہجری كے علماء:

1۔     القاضی الواقدی (207 ؁ھ)

2۔     حافظ الصنعانی (211 ؁ھ)

3۔     حافظ ابن ابی شیبہ الكوفی (239؁ھ)

4۔     ابو جعفر الاسكافی المعتزلی (240؁ھ)

5۔     حافظ ابو محمد الكشی (249؁ھ)

6۔     ابو سعید الاسبح الكوفی (257؁ھ) اور دیگر بہت سارے علماء۔

چوتھی صدی ہجری كے علماء

1۔     حافظ نسائی اپنی صحیح میں (303؁ھ)

2۔     مشہور مؤرخ و مفسر محمد بن جریر طبری (310؁ھ)

3۔     ابن البی حاتم الزازی (328؁ھ) وغیرہ

پانچویں صدی ہجری كے علماء

1۔     حافظ ابوبكر شیرازی (407؁ھ)

2۔     حافظ ابن مردویۃ الاصفہانی (416؁ھ)

3۔     ابو اسحاق الثعلبی (427؁ھ)

4۔     حافظ ابو نعیم الاصفہانی (430ھ)

5۔     الماوردی الفقیہ الشافعی (450؁ھ)

6۔     حافظ ابوبكر البیہقی (458؁ھ)

7۔     حافظ ابو بكر الخطیب ابغدادی الشافعی (463؁ھ)

8۔     حافظ ابو الحسن الواحدی النیشابوری (468؁ھ) وغیرہ

چھٹی صدی كے علماء

1۔     الفقیہ ابو الحسن علی بن محمد الكیا الطبری الشافعی (504؁ھ)

2۔     حافظ الفراء البغوی الشافعی (516؁ھ)

3۔     ابو الحسن رز بن العبدری الاندلسی (535؁ھ) اپنی كتاب الجمع بین الصحاح الست نقل از صحیح النسائی

4۔     ابو القاسم جار اللہ الزمخشری الحنفی (538؁ھ)

5۔     حافظ سمعانی الشافعی (562؁ھ)

6۔     الامام القرطبی (567؁ھ)

7۔     ابن عسا كرد مشقی (571؁ھ)

8۔     حافظ ابن جوزی حنبلی (597؁ھ) وغیرہ

(ہم نے یہاں نہایت اختصار سے كام لیا ہے جو قارئین كرام تفصیلات كے خواہاں ہیں، انہیں چاہیئے كہ كتاب الغدیر سے رجوع كریں)

تیسری صدی سے لیكر چھٹی صدی تك اتنے بزرگ مرتبہ علماء ’فقہاء‘ متكلمین، محدثین، مفسرین، مورخین، وغیرہ نے اتفاقی و اجماعی طور پر نقل كیا ہے كہ یہ آیت كریمہ امیر المومنین علی بن ابی طالب﷦ كی شان میں نازل ہوئی ہے، بات كو ثابت كرنے كی ذمہ داری مدّعی پر ہوتی ہے۔ جب ابن تیمیہ نے اتنا بڑا دعویٰ كیا تو بات كو ثابت كیوں نہیں كیا؟ یہ بات ملحوظ خاطر رہے كہ اہل سنت كے بڑے علماء اور جید فقہاء و مفسرین نے ابن تیمیہ كے خود اسلام پر شك كیا ہے اور كچھ نے تو باقاعدہ اسكے كفر كا اعلان كیا ہے جس كی تفصیلات انشاء اللہ كبھی اور ۔ افسوس یہ ہے كہ آج ابن تیمیہ كے حامیوں نے اسے شیخ الاسلام جیسے لقب سے نوازا ہے  اور اس كے فاسد و باطل نظریات كو اپنی زندگی كا مركز بنا لیا ہے۔

آخر میں یہ بات بے جانہ ہوگی كہ جو لوگ سلف صالح كی پیروی كا دم بھرتے ہیں وہ در حقیقت جید صحابہ كی روایت و اقوال كوردّ كر كے اپنی ہوائے نفس كی بات منوانا چاہتے ہیں۔

پروردگارا! ہم سب كو حقیقی اسلام و قرآن كے  بتائے ہوئے راستے پر چلنے كی توفیق مرحمت فرما ۔ آمین۔